ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قرآن کی بے حرمتی کرنے والے3 پولیس افسران کو معطل کیا جائے: کے ایم اشرف

قرآن کی بے حرمتی کرنے والے3 پولیس افسران کو معطل کیا جائے: کے ایم اشرف

Tue, 05 Sep 2017 14:03:53    S.O. News Service

منگلورو5؍ستمبر ( ایس او نیوز) شرتھ مڈیوال مرڈر کیس کے ملزم کی تلاش میں جانے والے پولیس افسران کے ہاتھوں ہونے والی قرآن کی بے حرمتی اور مدرسے کی نصابی کتابوں کو پھاڑنے کے واقعے کی یونائٹیڈ مسلم آرگنائزیشن کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے۔

یونائٹیڈ مسلم آرگنائزیشن کے صدر اورسابق میئر کے ایم اشرف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ" اس واقعے سے تمام مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ہم ملزم کا دفاع نہیں کررہے ہیں مگرقرآن کی بے حرمتی اورمدرسے کی کتابیں پھاڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔ "سابق میئراشرف کا کہناتھا کہ پولیس تحقیقات میں جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اشرف کلائی مرڈر کیس میں سازش رچنے والے سرغنہ کو نہ گرفتار کیاگیا اور نہ ہی اس کے گھر پر چھاپہ اور تلاشی کی کارروائی کی گئی۔ جبکہ شرتھ مرڈر کیس میں ملزمین کی گرفتاری کے بعد بھی ان کے گھروں پرچھاپے مارے جارہے ہیں۔ کلاڈکا سنگ باری کے ملزمین بھی کھلے عام گھومتے پھرتے نظر آ رہے ہیں۔

اشرف نے مطالبہ کیا کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والے 3پولیس افسران بنٹوال ایس آئی رکشت گوڈا،اپن انگڈی ایس آئی نندا کمار اورپتور سرکل انسپکٹر مہیش پرساد کو معطل کیا جائے۔اورکہا کہ 8ستمبر کو اس واقعہ کی مذمت میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ایس پی سدھیر کمار نے جو وضاحتی بیان جاری کیا ہے کیا وہ اس پر مطمئن نہیں ہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ قلندر کے گھر والے قرآن جیسی مقدس کتاب کے سلسلے میں جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ان پر اعتبار ہے ۔ پھر بھی اگر پولیس ہمارے اراکین، قلندر کی فیملی ااور مقامی سیاسی لیڈروں کے سامنے قلندر کے گھر پرتلاشی کے وقت بنایاگیا ویڈیو بغیر ایڈٹ کیا ہوا دکھاتے ہیں اور ہمیں اطمینان ہوجاتا ہے توپھر ہم احتجاج سے ہاتھ اٹھالینے اور معافی مانگنے کے لئے بھی تیار ہیں۔

اسی طرح ایم ایل اے مسٹر اے جے لوبو نے بھی ایک پریس کانفرنس منعقدکی اور کہا کہ اگر واقعی پولیس نے قرآن کی بے حرمتی اور مدرسے کی کتابیں پھاڑ نے کا معاملہ کیا ہے توپھر یہ لائق مذمت ہے۔پولیس کو ایسے معاملات میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔انہیں کسی کے بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس سلسلے میں پوری تفتیش کرنے اور حقیقت سامنے لانے کے لئے آئی جی پی ہیمنت نمبالکر کو مراسلہ لکھوں گا۔ اس معاملے میں جو بھی خطاکار ہوگا چاہے وہ پولیس ہو یا پھر شکایت کنندہ ، اسے سزا ہونی چاہیے۔


Share: